واشنگٹن ،8؍ستمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)دنیا بھر میں سرمائے کے غیر قانونی لین دین کی نگرانی کرنے والے سوئٹزرلینڈ کے ایک ادارے نے کہا ہے کہ پاکستان ان 50ملکوں میں شامل ہے جہاں دہشت گردی کے لیے سرمایہ کاری اور منی لانڈرنگ کے خطرات سب سے زیادہ ہیں۔باسل انسٹی ٹیوٹ آف گورننس نے اپنی 2017کی رپورٹ میں دنیا کے 146ملکوں میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی میں غیر قانونی فنڈز کے استعمال کے خطرے کی صورت حال کا جائزہ لیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں افغانستان، نیپال اور سری لنکا تین ایسے ملک ہیں جہاں سرمائے کی غیر قانونی ترسیل اور دہشت گردی کے لیے اس کے استعمال کا خطرہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔باسل انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ میں پاکستان کو اس فہرست میں 46نمبر پر رکھا گیا ہے جب کہ ہندوستان اس فہرست میں 88ویں نمبر پر ہے۔فوربس اور ہندوستان ٹائمز میں شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سرمائے کی غیر قانونی منتقلی اور اس کے دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے کے خطرے کو ایک خاص پیمانے پر پرکھا گیا جس میں سب سے کم خطرے کو صفر اور سب سے زیادہ خطرے کو 10کا نمبر دیا گیا تھا۔اس پیمانے کے مطابق 2017میں اوسط خطرے کی سطح 6.15ہے۔
دنیا کے دس ملک اس پیمانے میں سب سے اوپر ہیں جو بالترتیب ایران، افغانستان، گنی بساؤ، تاجکستان، لاؤس، موزمبیق، مالی، یوگنڈہ، کمبوڈیا اور تنزانیا ہیں۔ جب کہ سب سے نچلے درجے پر فن لینڈ، لیتھوانیا اور ایسٹونیا ہیں۔ایران 8.60کے اسکور کے ساتھ سر فہرست ہے جب کہ فن لینڈ 3.04 پوائنٹس کے ساتھ سب سے نیچے ہے۔باسل انسٹی ٹیوٹ کے اسکیل پر پاکستان کا اسکور 6.64ہے جو دنیا کے اوسط 6.15سے قدرے زیادہ ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پچھلے سال کے مقابلے میں اپنے ہاں سرمائے کے غیر قانونی لین دین میں سب سے زیادہ بہتری لانے والے ملک سوڈان، تائیوان، اسرائیل اور بنگلہ دیش ہیں۔ جب کہ جمیکا، تیونس، ہنگری، ازبکستان اور پرو ایسے ملک ہیں جن کے ہاں پچھلے سال کے مقابلے میں صورت حال میں سب سے زیادہ بگاڑ آیا ہے۔اگر جنوبی ایشیائی ممالک کی بات کی جائے تو أفغانستان، نیپال اور سری لنکا کا اسکور بالترتیب 8.38، 7.57اور 7.15ہے اور عالمی سطح پر یہ ملک ترتیب وار دوسرے، 14ویں اور 25درجے پر آتی ہیں۔